آرٹیکلز معلومات

بسنت کی تاریخ اور ایک واقعہ

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لیے اپنے ماننے والوں کو بہترین اور عمدہ اصول و قوانین پیش کیے ہیں۔ اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا اجتماعی اور سماجی ہر قسم کی زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری نجات مضمر ہے۔مگر آج ہمیں یورپ اور یہود و نصاریٰ کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں۔ یورپی تہذیب و تمدن اور طرزِ معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہوگئے ہیں، جن کی اصلیت و ماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعاً خلاف ہے؛ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے؛ حالاں کہ قوموں کا اپنی تہذیب وتمدن کو کھودینا اور دوسروں کے طریقہٴ رہائش کو اختیار کرلینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے۔

مذہبِ اسلام کا تو اپنے متبعین سے یہ مطالبہ ہے:اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم پر مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے. (البقرہ آیت208)بسنت کے موقع پر جو خرافات ہوتی ہیں جیسے اونچی آواز میں موسیقی ہوائی فائرنگ لڑکے لڑکیوں کا اختلاط اونچی آواز میں بوکاٹا اس کو ہم تھوڑی دیر کے لیے سائڈ پر رکھ کر ذرا اس کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ کہ آخر یہ ہمارے لاہور اور اس کے گرد ونواح میں کیسے رائج ہوئی۔تاریخ کے ایک محقق مؤرخ اور سائنسدان علامہ ابوریحان البیرونی تقریباً ایک ہزار سال قبل ہندوستان تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کلرکہار (ضلع چکوال) کے نزدیک ہندوؤں کی معروف یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک قیام کیا، وہیں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”کتاب الہند“ تحریر کی۔ یہ کتاب آج بھی ہندوستان کی تاریخ کے ضمن میں ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کے باب 76 میں انہوں نے ”عیدین اور خوشی کے دن“ کے عنوان کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکر کیا ہے۔

اس باب میں عید ”بسنت“ کا ذکر کرتے ہوئے علامہ البیرونی لکھتے ہیں: ”اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے، جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے ہیں اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں، دیوتاؤں کی نذر چڑھاتے ہیں“۔ کتاب الہند، مترجم: سید اصغر علی:صفحہ 206)آئیے پہلے اس حقیقت سے مطلع ہوتے ہیں کہ یہ کیسے شروع ہوئی؟ اور آخر یہ کس کی رسم ہے؟ ادھر موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے ادھر ہرطرف بو کاٹا کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ محبوبوں کے دن کے طور پر معروف ویلنٹائن ڈے بھی بہار میں ہی منایا جاتا ہے۔ ہر طرف بدتمیزی عام ہوتی ہے۔ رات کے وقت لائٹنگ اور ساؤنڈ سپیکر لگا کر اونچی آوازوں سے شرفاء کا جینا دو بھرکر دیا جاتا ہے. پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کو بہت زیادہ کوریج دیتا ہے۔ پہلے پہل اس رسم یعنی بسنت کا آغاز ہندوستان کے مشہور صوبوں اتر پردیش اور پنجاب میں ہوا۔پھر یہ لاہورمیں گستاخِ رسول کو جہنم واصل کرنے کے بعد اس کی یاد میں ہندوؤں نے اسے منایا.

ایک ہندو موٴرخ ڈاکٹر بی ایس نجار (Dr. B.S. Nijjar) نے اپنی کتاب ”Punjab under the ”later Mughals کے صفحہ نمبر 279 پر لکھا ہے کہ:”حقیقت رائے نامی ہندو نوجوان باکھ مل پوری سیالکوٹ کے کھتری کا لڑکا تھا۔ ایک دفعہ اس کی لڑائی کچھ مسلمان نوجوانوں سے ہوگئی، اس ہندو نوجوان نے سرورِ کائنات ﷺکی شان میں کچھ نازیبا گفتگو کی، ساتھ ساتھ سیدہ فاطمۃالزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان میں مغلظات بکے، جس سے برصغیر کے سارے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوگئے۔اس وقت کاگورنر زکریا خان مسلمان تھا، اس نے گستاخ ہندو نوجوان کو اس کے جرم کی پاداش میں گرفتار کروا دیا ۔عدالتی کاروائی کے لیے لاہور لایا گیا، اس کے گرفتار کرنے سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی سوگ منانے لگی۔ اس سے ان کو بڑا شدید دھچکا لگا لہٰذا پھر کچھ ہندو آفیسرز مل کر گورنر پنجاب کے پاس گئے اور اس نوجوان کے لیے درخواست کی کہ اس کو معاف کردیا جائے، مگر گورنر پنجاب زکریا خان نے صحیح مسلمان ہونے کا حق ادا کر دیا اور معاف نہ کیا۔

بہرحال اس نوجوان کو کوڑے مارے گئے اور بعض ازاں اپنے گستاخانہ مغلظات پر قائم رہنے کی وجہ سے اس کو پھانسی دے دی گئی اور بعض جگہ لکھا ہے کہ اس کی گردن اڑا دی گئی۔پھر ہندوؤں نے اس کی یاد میں بسنت کا تہوار منانا شروع کر دیا۔ اس نوجوان کی سمدھی لاہور میں ہے۔ لاہور میں واقع بھاٹی گیٹ سے گاڑی جاتی ہے۔ پنجاب کا بسنت میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔“ افسوس کہ ہم ایک گستاخِ رسول کی یاد مناتے ہیں۔اگر بسنت محض موسمی تہوار ہوتا تو یہ صرف لاہورہی نہیں، پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اتنا ہی مقبول ہوتا۔ اندرونِ سندھ میں جہاں اب بھی ہندوؤں کی کثیر تعداد رہائش پذیر ہے، وہاں پتنگ بازی یا بسنت کی وہ ہنگامہ آرائی نظر نہیں آتی جس کا مظاہرہ لاہور یا اس کے گردونواح میں کیا جاتا ہے۔ایسی صورتحال بلاوجہ نہیں ہے۔ اس کا ایک مخصوص تاریخی پس منظر ہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں بسنت کے بارے میں تجزیاتی رپورٹ شائع ہوئی، اس کے متعلقہ حصے ملاحظہ فرمائیے:”بسنت خالص ہندو تہوار ہے اور اس کا موسم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت میں بسنت کی کہانی ہر سکول میں پڑھائی جاتی ہے لیکن لاعلمی یا بھارتی لابی کی کوششوں سے بسنت کو اب پاکستان میں مسلمانوں نے موسمی تہوار بنا لیا ہے۔ بسنت کی حقیقت کیا ہے اور اس کا آغاز کیسے ہوا؟اس بارے میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قریباً دو سو برس قبل ایک ہندو طالب علم حقیقت رائے نے محمد مصطفی کے خلاف دشنام طرازی کی۔ مغل دور تھا اور قاضی نے ہندو طالب علم کو سزائے موت سنا دی۔ اس ہندو طالب علم کو کہا گیا کہ وہ اسلام قبول کر لے تو اسے آزاد کر دیا جائے گا مگر اس نے اپنا دھرم چھوڑنے سے انکار کر دیا، چونکہ اس نے اقرارِ جرم کر لیا تھا، لہٰذا اسے پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی لاہور میں علاقہ گھوڑے شاہ میں سکھ نیشنل کالج کی گراؤنڈ میں د ی گئی۔ قیام پاکستان سے پہلے ہندوؤں نے اس جگہ یادگار کے طور پر ایک مندر بھی تعمیر کیا لیکن یہ مندر آباد نہ ہوسکا، اور قیامِ پاکستان کے چند برس بعد سکھ نیشنل کالج کے آثار بھی مٹ گئے۔ اب یہ جگہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا حصہ بن چکی ہے۔

ہندوؤں نے اس واقعہ کو تاریخ بنانے کے لیے، اپنے اس ہندو طالب علم کی ”قربانی“ کو بسنت کا نام دیا اور جشن کے طور پر پتنگ اُڑانے شروع کردیے۔ آہستہ آہستہ یہ پتنگ بازی لاہور کے علاوہ انڈیا کے دوسرے شہروں میں بھی پھیل گئی۔ اب ہندو تو اس بسنت کی بنیاد کو بھی بھول چکے مگر پاکستان میں مسلمان بسنت منا کر اسلام کی رسوائی کا اہتمام کرتے رہتے ہیں. (روزنامہ نوائے وقت،4 فروری 1994ء)“ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کہیں شعوری یا غیر شعوری طو رپر ایک گستاخِ رسول کی یاد میں منعقد کیے جانے والے بسنت میلہ میں شریک ہو کر ہم توہین رسالت کا ارتکاب تو نہیں کر رہے؟ کیا ہم ہندوؤں کے مذہبی تہوار کو منا کر دوسری قوموں سے مشابہت کے گناہ کا اِرتکاب تو نہیں کر رہے؟ کیا ہمارا بسنت منانے کا طور طریقہ لہو و لعب کی تعریف میں شامل تو نہیں ہے؟ بسنت کے نام پر رقص و سرور، ہلڑ بازی، ہاؤ ہو،شورشرابہ، چیخم دھاڑ، فائرنگ، وغیرہ مہذب قوموں کا شعار نہیں ہےاللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت اور سمجھ نصیب فرمائے ۔آمین