آرٹیکلز

دانشوری کا سونامی

موجودہ معاشرتی رویوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے اور حاصل مشاہدہ کو پچھلے دس پندرہ برسوں کے دوران برپا ہوئے ابلاغی انقلاب کے تجزیے سے منسلک کیا جائے تو یہ عمومی تاثر ملتا ہے کہ ملکی آبادی کا بڑا حصہ دانشوری کو بطور جُز وقتی پیشہ اپنا چُکا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک ٹی وی، ایک کیبل کنکشن اور انٹرنیٹ سے جڑا اسمارٹ فون ہے تو بس یہ اہتمام کافی ہے، پھر چاہے آپ طالبعلم ہوں یا دیہاڑی دار مزدور، باورچی خانے میں ہانڈی جلاتے ماسٹر شیف یا تھڑے پر کھڑے پان چباتے آتی جاتی خواتین کے معمول پر نظر رکھنے والے کل وقتی سماجی ٹھیکدار، اپنی قابلیت کے اِس لافانی چمن کی خوشبو پھیلانے کے لئے آپ کو بس اپنی ذات کی خداداد صلاحیتوں پر اندھا بہرا اعتبار اور روئے زمین پر بسنے والی ہر دوسری مخلوق کی سوچ سے کراہت کا جذبہ درکار ہے۔ اگر آپ اِن صفات سے مسلح ہیں تو آپ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت اب آپ کو دانشوری کی باسی کڑھی میں ایک نیا اُبال لانے سے نہیں روک سکتی۔ آزمائش شرط ہے۔

دانشوری کی اِس سونامی نے معاشرے میں ایک مسلسل فکری ہیجان برپا کر رکھا ہے۔ جس کا مظاہرہ ٹی وی چینلز پر پرائم ٹائم کے دوران نشر ہونے والے حالات حاضرہ اور انفوٹینمینٹ کے 80 فیصد پروگرامز ہیں (باقی 20 فیصد اشتہارات ہیں جن میں عموماً غیر معقولیت کا تناسب نمک میں آٹے کے برابر پایا جاتا ہے)۔ دانشوری کی اِسی وباء کے باعث اب یہ حال ہوچلا ہے کہ اگر آپ اپنے احباب میں سے ایسے ہی کسی مریضِ دانشوری کا دل رکھنے کی خاطر اس سے مشورہ مانگ بیٹھیں تو وہ نہ صرف واقعی آپ کو مشورہ دینے لگتا ہے بلکہ اُس پر عمل کروانے پر تُل جاتا ہے۔ ڈھکی چھپی کہو یا کھلی ڈُلی، بشمول راقم اَن گنت افراد اِس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ وہ ملکی و بین الاقوامی معاملات پر عقلِ کُل اور حتمی فیصلہ کن رائے رکھنے کے مجاز اور اپنی رائے دوسروں پر زبردستی تھوپنے میں قطعی حق بجانب ہیں۔ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی شکست پر اِسی بزمِ دانش کی جانب سے امریکی عوام کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر منتخب کرنے پر سخت لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید اِسی لعن طعن سے گھبرا کر نو منتخب امریکی صدر نے انتخابی مہم کے دوران اپنی جانب سے کئے گئے کئی وعدوں کی فہرست پر نظرِ ثانی شروع کردی ہے (واللہ العلم)۔

اِس قصے کو بیان کرتے ہوئے دانشوری کے سونامی کی سب سے اونچی لہر پر سوار اینکر پرسنز کا ذکر نہ کرنا زیادتی ٹھہرے گی۔ یہی وہ دانش کے اصل سوتے ہیں جو کچے موتیوں کی مانند، حقائق کے ساحل پر پڑی خرد کی سیپیوں سے منوں کے حساب سے نکلے چلے آرہے ہیں۔ فارمولا یہ ہے کہ پہلے آپ نیوز کاسٹر بن کر خبر کو قبر بیان کرنے کا طریقہ سیکھیں، اِس دوران اپنا حلقہِ اثر ذمیوں سے بدل کر اثر و رسوخ رکھنے والے عسکری اور سیاسی اشرافیہ سے جوڑیں۔ یہ تعلق آپ کو اقتدار کی راہدریوں میں ہونے والی سرگوشیوں تک رسائی دے گا جو ذاتی و پیشہ وارانہ حیثیت میں آگے بڑھنے کے لئے کافی سے زیادہ سودمند ثابت ہوگا۔

اگلا مرحلہ چینل پر اپنا ذاتی ٹاک شو کے حصول کے بعد اُن احباب کو اپنے شوز میں مدعو کرکے خود پر کہنہ مشق اینکر ہونے کی چھاپ لگوانا ہے۔ اگر آپ کی زبان سے زیادہ شیرہ ٹپکتا ہے تو ٹاک شو کی کامیابی مزید پھیل کر مارننگ شوز، مذہبی پروگرامز اور گیم شوز تک جاسکتی ہے اور آپ بیک وقت مذہبی اسکالر، سینئر تجزیہ نگار اور بے مثال اینٹرٹینر کے طور پر جانے جاسکتے ہیں جو اہلِ ایمان کوماہِ رمضان کے دوران سحرمیں جگاتا ہے سارا دن سر پر سوار رہ کر کر بعد از افطار ہنساتا ہے، محرم میں رلاتا ہے اور پروگرام کے وقفوں کے درمیان تکنیکی اسٹاف کے ساتھ ایسی بے تکلف گفتگو فرماتا ہے جس کو سُن کر ہر شریف آدمی شرما جاتا ہے۔

بہرحال دریا کو کوزے میں بند کرنے کے موثر طریقے کی دریافت تک موجودہ بحث سمیٹنے کی سعی شروع کی ضرورت ہے۔ بے شک مصنوعی دانشوری کی وباء موجودہ کیفیت میں سنجیدہ علمی حلقوں کے لئے ازحد تشویش کا باعث ہے۔ زیادہ تر شعبہ زندگی میں نیم حکماء کی بڑھتی اجارہ داری اور نئے آنے والے افراد کی غیر موثر پیشہ وارنہ تربیت محض ضمنی مسئلہ ہے۔ اِس تمام طوفانِ بدتمیزی کی بنیادی ذمہ دار معاشرتی سطح پر بکھری عمومی علمی پسماندگی ہے، جس کا سدِباب کرنے کے لئے جلد معاشرہ میں عوامی سطح پر علمی تحریک کے احیاء کی ضرورت ہے۔