آرٹیکلز

مایوسی امید میں کیسے بدلے؟

قرآن پاک کا سورہ ’بقرہ‘ میں حکم ہے کہ انسان سچی بات کہے اور حق کو نہ چھپائے۔ ’اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپائو‘۔ یوں قرآن تنبیہہ کررہا ہے کہ کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو سنتے، دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی حق بیان نہ کرتے اور جان بوجھ کر سستی یا کوتاہی برتتے ہیں۔ جو حق کا ساتھ اور عقل سے کام نہیں لیتے، قرآنی اصول کے مطابق یہ ہی بدترین لوگ ہیں۔اسی طرح قرآن نے سورہ ’الرعد‘ میں زندہ قوموں کا ایک اور اصول بیان کیا ہے کہ ’اللہ پاک کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت خود بدلنے کا بندوبست نہ کرے‘۔محولہ بالا آیات کی روشنی میں دو اصول (حق گوئی اور عمل) اخذ ہوتے ہیں۔ نتیجہ درحقیقت عمل کے اندر پنہاں ہوتا ہے۔

انسان جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔ کیونکہ ثمر بیج کے اندر پنہاں ہے۔ انسان کو عمل کرنے کی آزادی ہے۔ عمل پہلے سرزد ہوتا ہے، جبکہ نتیجہ بعد میں برآمد ہوتا ہے۔ جو لوگ زندگی پر جمود طاری کرلیتے ہیں وہ محکوم بن جاتے ہیں۔ عدم روادری، عدم مساوات، سیاسی، معاشی اور معاشرتی زبوں حالی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ ظلم، دہشت گردی اور فساد ان کا وتیرہ بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے لوگ خوف وحزن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مطلب جسے زندوں میں شمار ہونا ہے اسے جمود توڑ کر حرکت اور حق گوئی کے اصول پر قائم رہنا ہوگا۔ان اصولوں کے پیشِ نظر ہم جب موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں فکری جمود نظر آتا ہے۔ سیاسی و معاشی ناانصافی کے خلاف سچائی سے گریزاں انسانی ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

ہماری آنکھوں کے سامنے بے حسی، جھوٹ، منافقت، نفرت اور خوف جیسے منفی رویے ہمارے معاشرے کو تنزلی کی طرف تیزی سے دھکیلتے نظر آتے ہیں۔ ہم نہ صرف تنزلی کے گواہ بلکہ حصہ بن چکے ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھنے اور سننے کے باوجود بھی اندھے بنے بیٹھے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہماری اس زبوں حالی کے محرکات اور اسباب کیا ہیں؟اس زبوں حالی کی ایک وجہ تو وہ تین اساسی قوتیں ہیں جو عوام اور پاکستان کی انفرادی اور اجتماعی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان تینوں قوتوں کی تمثیل فرعون، قارون اور ہامان کے رنگ میں پیش کی جاسکتی ہے۔ فرعون ملوکیت کی علامت ہے جو ملک وقوم کو سیاسی طور پر غلام بنائے ہوئے ہے۔ قارون اس جماعت کا نمائندہ ہے جو ملک و قوم کے ذرائع آمدن پر قبضہ

کرکے عوام کو ان کے بنیادی معاشی و معاشرتی حقوق سے محروم کیے ہوئے ہے۔ ہامان اس برہمنیت کا آئینہ دار ہے جو فرعون اور قارون کے ناجائز قبضہ کو جائز قرار دیئے ہوئے ہے اور لوگوں کو صبر کی تلقین اور اگلے جہان میں جنت کا جھانسہ دے کر فرعون اور قارون کے اختیارات کو مذہبی سطح پر جواز مہیا کیے ہوئے ہے۔اس زبوں حالی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کی دوسری مگر اہم وجہ ہم خود ہیں۔ ہماری فکری سوچ، سیاست، معیشت اور حریت سب انہی فرعونی، قارونی اور ہامانی قوتوں کی غلام ہے۔ ہم اپنی عزت و وقار، آزادی، عقل، ارادہ، امتیاز، صلاحیتیں، استحقاق ترک کیے ہوئے ہیں۔ یہ صفات جس نے ہمیں

اشرف المخلوق کا جامہ پہنایا، ہم انہی صفات کو بھول کر ازخود اپنی اہمیت بھول چکے ہیں۔ ہم اب تک تقلید و اوہام کی زنجیروں کو نہ توڑ پائے ہیں۔ہم ناانصافی دیکھنے کے باوجود حق گوئی سے گریزاں ہیں۔ ہم زبوں حالی کے باوجود اپنی حالت آپ بدلنے کے بجائے کسی مسیحا اور معجزہ کے منتظر ہیں۔ ہم قرآن کے اصول کو سمجھنے سے عاری ہیں کہ خدا ان کے حالات نہیں بدلتا جو اپنے حالات آپ بدلنے کے خواہاں نہ ہوں۔ ہم قرآن کے اصولِ حق گوئی سے بھی ناواقف بنے بیٹھے ہیں۔موجودہ زمینی حقائق متقاضی ہیں کہ ہم قرآن کے بتائے گئے اصول حق گوئی اور اصولِ عمل کو اپنا کر اپنی عظیم ذمے داری نبھائیں تاکہ معاشرے میں جنم لینے والے ظلم کے خلاف علمِ حق بلند ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اس ذمے

داری کی نوعیت اور مقصد کیا ہے؟اس ذمے داری کی نوعیت اور مقصد تمام سیاسی، مذہبی، جغرافیائی اور نسلی مصلحتوں اور وابستگیوں سے مبّرا ہوکر ظالم کے خلاف مظلوم کی آواز بننا ہے۔ ذاتی اور وقتی مفادات پر اجتماعی اور قومی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ ہماری سیاسی، مذہبی یا نسلی مخالفت اور عداوت ہمیں راستی اور انصاف کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہ کرے۔ ہم جم کر سچی گواہی دینے والے بن جائیں۔ اگرچہ وہ گواہی ہماری اپنی ذات، عزیز و اقرباء، سیاسی، مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فکری جمود کو توڑ کر اس کی پختگی اور غورو فکر کا بندوبست کریں۔ ہم معاشرتی فلاح، تعلیم، صحت، بے روزگاری، امن، باہمی ہم آہنگی، برداشت، رواداری، خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔

ہم ملکی سالمیت، آئین، عوام اور جمہوریت کے پاسبان بن جائیں۔ہم ایک ایسی غیر متشدد پرامن فکری تحریک کا آغاز کریں، جس کا مقصد ہر متشدد، مذہبی، سیاسی اور نسلی و علاقائی جنونیت، غیر اخلاقی، غیر انسانی، غیر آئینی، غیرجمہوری، صنفی امتیاز اور تعصب پر مبنی قوت کا قلع قمع کرنا ہو۔ اس فکری…… تحریک کےلیے کسی مال ومتاع اور مددگار کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ہے تو صرف ہمت کی، لگن کی، سچائی کی، حصولِ مقصد کی، فکری پختگی کی اور سب سے بڑھ کر عمل کی۔ بقولِ اقبال:در افتد باملوکیت……….. …..کلیمے فقیر بے کلاہے بے گلیمے گہے باشد کہ بازی ہائے تقدیر بگیرد کار صرصر از نسیمے یعنی ’ایک کلیم، جو حق بات بول سکے اور بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے حق کی بات کہہ سکے، کبھی

کبھار ملوکیت کے ساتھ ٹکر لے لیتا ہے۔ وہ کلیم فقیر و بے نوا ہوتا ہے جس کے پاس نہ تاج ہوتا ہے نہ دنیا کا کوئی مرتبہ، اور وہ ہوتا بھی بے سرو سامان ہے لیکن یہ قدرت کا کھیل ہے کہ ایک مرد بے نوا کسی طاقتور بادشاہ کو شکست سے دوچار کردیتا ہے‘۔ہمیں ساری قوتیں و کوششیں خالص ملک وقوم کی خوشحالی، جمہوریت کے استحکام اور قومی یکجہتی پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو فرقہ پرستی اور پارٹی بازی چھوڑ کر ایک خوشحال قوم اور جمہوری ملک کےلیے متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں عملی طور پر لوگوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کےلیے انفرادی اور اجتماعی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہماری

ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے کہ جاہلیت عرفان میں بدلے۔ مایوسی امید میں بدلے۔ غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ شکنی ہو، جمہوری رویے پروان چڑھیں۔ غیر یقینی اور خوف کے بادل چھٹ جائیں۔ تاریکی روشنی سے گھبرائے۔ باطل حق کا سامنا نہ کرسکے۔ اور اگر کسی وقت بھی ہم یہ محسوس کریں کہ عدل و انصاف کے پیمانے بدل رہے ہیں، حق سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے، ہم ہمت ہار رہے ہیں، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ مندوب قرار دیا جارہا ہے، تو پھر ہم سب پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے ساتھ باقی لوگوں کو بھی حاضر و موجود کی طرف متوجہ کریں اور ان کا احساس جھنجھوڑیں۔ اس لیے اقبال کہتے ہیں:ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے