آرٹیکلز

کیفیات ہمارا ثقافتی اثاثہ

کچھ نام ‘ نام نہیں بلکہ کیفیات ہوتے ہیں۔ اور یہ ہمارا ثقافتی اثاثہ ہیں جیسا کہ”لاہوری”۔۔۔ لاہوری اس وقت کی سب سے بدنام کیفیت ہے۔ جس کا نام لیتے ہی بندے کو جھر جھری سی آ جاتی ہے۔ کوئی بندہ جب الٹی سیدھی حرکتیں کرنا شروع ہو جائے تو اسے ہم لاہوری کا نام دے دیتے ہیں۔ کل میرا دوست لاہور سے واپس آیا تھا، پہلے تو میں نے یقین نہ کیا کہ اُس نے لاہور کا چکر لگایا ہے مگر جب آتے ہی اُس نے دروازے کو ٹانگ مار کر بند کیا اور چھلانگ لگا کر چارپائی پہ بیٹھا تو میں سمجھ گیا کہ بھائی لاہور واقعی گیا تھا۔ جو لوگ خوش ذائقہ، خوش خوراک ہوتے ہیں وہ لاہوری ہوتے ہیں۔ لاہور رہ کر آپ کبھی بھی خود کو اجنبی نہیں محسوس کر سکتے۔ کہتے ہیں گوگل میپس کی ایجاد ایک یہودی سازش ہے، جو لاہوریوں کے راستہ بتانے کی عادت کو بدلنے کے لئے کی گئی ہے۔

پنڈی بوائز نامی نام پنڈی وال لڑکوں کا نہیں ہوتا بلکہ ہر اس شخص کا نام پنڈی بوائے ہے جو سیونٹی کا سائلنسر نکال کر پھڑیں ننن کرتی بائیک پچھتر ڈگری کے زاویے پہ جھُک کر چلا رہا ہو۔ جدید تحقیق کے مطابق ایسے لوگوں کا لباس تیز لال یا پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ ان میں اور غوری میزائل میں کافی مماثلت موجود ہے، جیسا کہ غوری میزائل شاں کر کے گزرتا ہے یہ بھی شاں کر کے ہی گزرتے ہیں۔ اس کیفیت کے حامل لوگوں نے لڑکی نامی مخلوق نہیں دیکھی ہوتی، اسی وجہ سے جب بھی یہ کوئی لڑکی دیکھتے ہیں تو اپنے ساتھ والے “راجہ جی” کو بھی کہنی مار کر کہتے ہیں “راجہ جی تُساں کی چیک کیتی کہ نہیں! ” اس مخلوق کی قومی غذا سیور کا پلاؤ ہے۔

اسی طرح برگر بوائز نامی ایک کیفیت ہے، یہ کیفیت پنڈی بوائز کی مخالف ہے، ا ن کے پاس بائیک تو ہوتی ہے لیکن چائنہ کی سیونٹی نہیں بلکہ سوزوکی جی ایس ہوتی ہے۔ یہ جب بھی سگنل پہ کھڑے ہوتے ہیں تو بائیک کو ریس دے کر اپنی موجودگی کا احساس ہر کسی کو دلاتے ہیں۔ یہ مخلوق ایک دوسرے کی بھائی نہیں “برو “ہوتی ہے۔ بات کرتے وقت انکی زبان کم ‘ ہاتھ اور ٹانگیں زیادہ بولتے ہیں۔ “جی بھائی ” کی بجائے “یو برو” اور ہائے ربا مر گئے کی بجائے یہ “او ایم جی” کہا کرتے ہیں۔ انکی غذا برگر نہیں بلکہ “بہ گر” ہے۔ انگریزی کی ماں بہن سے جنم جنم کی قومی دشمنی کی ذمہ داری یہ مخلوق بخوبی ادا کر رہی ہے۔ یہ مخلوق ایل جی ایس اور امیرکن لائسیم سے پیدا ہوکر ایف سی یا این سی اے میں جا کر ختم ہوجاتی ہے۔ عام بندہ جہاں “جپھی کُٹ کے پاء گُجرا” انگریزی ترجمہ “hug me tight” جیسے گانے سُنتا ہے وہیں یہ مخلوق پنجابی گانوں کو “رَبِش” کہہ کر انگلش گانے جیسا کہ لو می لائیک یو ڈو سننا شروع ہوجاتے ہیں ،حالانکہ اس گانے میں بھی ایلی گوڈلنگ “جھپی کُٹ کے پاء” جیسی باتیں ہی کہتی ہے لیکن چونکہ یہ انگریزی میں ہے اس لئے یہ “اوسم” کہلاتا ہے۔

جٹ، جٹ ایک نسل کا نہیں بلکہ کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت بیس بھینسیں رکھ کر نہیں آتی بلکہ شلوار قمیض کے نیچے جوگرز پہن کر آتی ہے۔ اس کیفیت میں بندہ ڈریس سینس بالکل ہی بھول جاتا ہے۔ پرسوں میں مختلف قوموں کا ارتقائی سفر پڑھ رہا تھا تو پتا چلا کہ جٹ اب شلوار قمیض کے نیچے جوگر پہننے سے آگے پہنچ چکے ہیں اور اب وہ کالی قمیض کے نیچے بلو جینز پہننا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ زندہ مثال ان لوگوں کے لئے نشانِ عبرت ہے جو ارتقا کا انکار کرتے ہیں۔

گُجر، اوپر آپ نے “جپھی کُٹ کے پاء گجرا” پڑھا ہوگا مگر آپ تذبذب کا شکار ہونگے کہ آخر یہ گجر ہیں کیا؟ دراصل ہم سب گجر ہیں، لیکن سردیوں میں ہمارے اندر کا گجر جاگا کرتا ہے۔ معروف تاریخ دان آرنلڈ گجر اپنی کتاب “Ten way to be Gujjar” میں لکھتے ہیں کہ بندہ گجر ہفتے بھر میں بن سکتا ہے۔ بس آپ کو تسلسل کیساتھ نہانا نہیں ہوگا۔ گجر اور بھینس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسی لئے دونوں کو نہانے سے چِڑ ہوتی ہے۔

اس سمیت بہت سی دوسری کیفیات ہیں۔ جیسا کہ آرائیں ہیں، جو آئسکریم کے مقابلے میں آرائیسکریم ایجاد کر چکے ہیں۔ خیر باقی کیفیات پہ پھر کبھی بات ہوگی۔ مگر یہی کیفیات ہمیں انسان بناتی ہیں ان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔ ہمیں ان سب کی قدر کرنی چاہیے۔ یہ ثقافتی اثاثہ ہیں۔