آرٹیکلز معلومات

مریخ ! ہم آرہے ہیں

مریخ……سیارۂ ارض کا سرخی مائل ہم سایہ جس نے عشروں سے سائنس داں برادری کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ مریخ سے اس قدر ’ محبت ‘ کا سبب خلائی مخلوق تک پہنچنے کی جستجو ہے۔ نہ جانے کیوں حضرت انسان کو یقین ہے کہ لامحدود وسعت کی حامل اس کائنات میں زندگی صرف ایک سیارۂ زمین تک محدود نہیں ہوسکتی۔کرۂ ارض سے باہر بھی کہیں نہ کہیں حیات ضرور وجود رکھتی ہے۔ ابتدا میں یہ تصور زبانی قصے کہانیوں تک محدود رہا۔ پھر ذرائع ابلاغ وجود میں آئے تو خلائی مخلوق کا وجود کہانیوں، ناولوں، رسائل و جرائد، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پردۂ سیمیں کی زینت بن گیا۔ گذشتہ برس میں سائنس اور ٹیکنالوجی تدریجی مراحل طے کرتے ہوئے اس درجے پر پہنچی کہ انسان خلائی مخلوق کو کھوجنے کے لیے عملی طور پر کوششیں کرسکتا۔ چناں چہ طاقتور خلائی دوربینیں، جدید آلات سے مزین رصدگاہیں، مصنوعی سیارے، خلائی و تحقیقی جہاز وجود پاگئے۔اگرچہ سائنس داں خلائے بسیط کی مختلف سمتوں میں زندگی کا کھوج لگارہے ہیں مگر اس ضمن

میں مریخ ان کی خصوصی توجہ کا مرکز چلا آرہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سائنس دانوں کے خیال میں زمین سے قربت کے باعث سرخ سیارے پر طبعی حالات زندگی کی نمو کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں۔ گذشتہ عشروں کے دوران مریخ کی جانب متعدد خلائی مشن روانہ کیے گئے۔ کچھ خلائی مشن اس سیارے کی سطح پر اتر کر زندگی کو کھوجنے لگے اور کچھ اس کے مدار میں محوگردش رہ کر معلومات کے حصول میں مصروف ہوگئے۔ان کاوشوں کے نتیجے میں مریخ پر برف دریافت ہوئی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ کسی دور میں اس سیارے پر دریا اور سمندر پائے جاتے تھے۔ تاہم ہنوز حیات کا سراغ لگانے میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ تاہم سائنس داں شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ 2020 میں بھی مریخ کی جانب کئی خلائی مشن روانہ کیے جائیں گے۔ مریخ کے علاوہ ماہرین فلکیات اسرار کائنات سے پردہ اٹھانے کے لیے دیگر سمتوں میں بھی تحقیق وجستجو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں سورج، زہرہ ، مشتری اور کئی دوسرے سیاروں اور سیارچوں کے بارے میں جاننے کے لیے مشن بھیجے جاچکے ہیں۔

رواں برس بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ قارئین کی دل چسپی کے لیے ذیل کی سطور میں موجودہ سال مریخ کی جانب روانہ کیے جانے والے اور دیگر مشنوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔  ناسا مارس روور 2020رواں برس جولائی تک فلکیاتی منظرنامے پر مریخ چھایا رہے گا کیوں کہ یورپ، امریکا، چین، روس اور متحدہ عرب امارات سرخ سیارے کی جانب خلائی تحقیقی مشن روانہ کریں گے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کی تحقیقی خلائی گاڑی کیپ کارنیوال ایئرفورس بیس سے جولائی یا اگست میں روانہ کی جائے گی۔ جدید آلات سے لیس یہ روبوٹک خلائی تحقیقی گاڑی یونائیٹڈ لانچ الائنس کے اٹلس V-541 راکٹ پر سوار ہوکر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگی۔ دو ہفتے قبل روور نے ’ڈرائیونگ ٹیسٹ‘ پاس کرلیا تھا۔ اب یہ فروری 2021 کے وسط میں مریخ کی سطح پر اترنے تک متحرک نہیں ہوگی۔یہ نیم خودکار تحقیقی گاڑی مریخ پر Jezero نامی وسیع و عریض گڑھے میں خردبینی جاندار تلاشنے کی کوشش کرے گی۔ سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق یہ گڑھا کسی دور میں جھیل ہوا کرتا تھا

جو نامعلوم وجوہ کے سبب بعدازاں خشک ہوگئی۔ مشن کے دوران مارس روور یومیہ 650فٹ فاصلے طے کرے گی۔ اس دوران یہ گڑھے میں سے پتھروں اور مٹی کے نمونے ٹیوبوں میں بھر کر وہیں چھوڑتی جائے گی۔ پھر ایک ہی بار یہ تمام نمونے اکٹھا کرے گی۔ روزلینڈ فرینکلن روووریورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) اور روسی خلائی ایجنسی(روس کوس موس) مریخ کی جانب سے مشن روانہ کرنے کے لیے مل کر کام کررہی ہیں۔ اس مشن کے ذریعے روسی خلائی ایجنسی کے کازاچوک لینڈر کے ذریعے تحقیقی خلائی گاڑی ’ روزالینڈ فرینکلن روور‘ سرخ سیارے کی جانب بھیجی جائے گی۔ روزالینڈ فرینکلن روور کو قبل ازیں ایگزو مارس روور کا نام دیا گیا تھا۔ بعدازاں یہ مشن معروف انگریز کیمیاداں روزالینڈ فرینکلن سے منسوب کردیا گیا جس نے ڈی این اے، آر این اے ، وائرس، کوئلہ اور گریفائٹ کی مالیکیولی ساخت کی تفہیم میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ناسا کے مارس روور 2020 کے مانند روزالینڈ فرینکلن روور کا بنیادی ہدف بھی یہ جاننا ہے کہ آیا سرخ سیارے پر کبھی زندگی وجود رکھتی تھی

یا نہیں۔ برطانوی ماہرین کی تیارکردہ خلائی گاڑی مریخ کی سرزمین پر آٹھ مہینوں تک فعال رہے گی۔ اس دوران یہ یومیہ 330 فٹ کا فاصلے طے کرتے ہوئے تحقیق کا عمل جاری رکھے گی۔ مریخ کے مدار میں اکتوبر 2016 سے موجود ٹریس گیس آربیٹر اس مشن کے لیے ریلے اسٹیشن کے طور پر کام کرے گا۔ مارس گلوبل ریموٹ سینسنگ آربیٹر، لینڈر اور اسمال روور مشنچین بھی مریخ کو کھوجنے کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ پہلی بار اپنی ڈلیوری وہیکل کے ذریعے سرخ سیارے کی جانب مشن روانہ کرے گا جسے ’مارس گلوبل ریموٹ سینسنگ آربیٹر، لینڈر اینڈ اسمال روور مشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مشن جولائی 2020 میں لانگ مارچ 5 نامی ہیوی لفٹ راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔ اس مشن کے اہداف میں مریخ پر ماضی میں رواں رہنے والی زندگی کے آثار کھوجنا اور سیارے کے ماحول کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شامل ہیں۔ 27 دسمبر 2019 کو چین نے ایک آزمائشی مصنوعی سیارہ ارضی مدار میں بھیج کر لانگ مارچ 5 کی کامیاب آزمائش کرلی تھی۔

شمسی توانائی سے چلنے والا روور سطح ارض کی گہرائی میں ’ جھانکنے‘ والا راڈار، ملٹی اسپکٹرل کیمرا، لیزر انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹرواسکوپی انسٹرومنٹ اور سیارے کے مقناطیسی ماحول اور آب و ہوا کو جانچے کی صلاحیت کے حامل جدید آلات سے لیس ہوگا۔ ہوپ مارس مشنمتحدہ عرب امارات بھی خلائی تحقیق اور خلائی مخلوق کو کھوجنے کی دوڑ میں شامل ہوچکا ہے۔ رواں برس وہ بھی مریخ کی جانب مشن روانہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ عرب امارات نے مریخ کے لیے اپنے اولین مشن کو ’ ہوپ مارس مشن‘ کا نام دیا ہے اور یہ جولائی میں جاپانی راکٹ پر سوار ہوکر اپنے ہدف کی جانب روانہ ہوگا۔ اس مشن کی روانگی کے ساتھ ہی یو اے ای کسی سیارے کی جانب خلائی مشن روانہ کرنے والا پہلا عرب اسلامی ملک بن جائے گا۔ہوپ مارس مشن اپنے متعین مقام پر پہنچ کر موسمی چکروں (seasonal cycles ) کے ذریعے ہر لمحہ سرخ سیارے کے طبعی اور موسمی حالات کا مطالعہ کرے گا۔ یہ مشن 2021 میں عرب امارات کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر

مریخ کے مدار میں پہنچے گا۔ہوپ مارس مشن کولوراڈو بولڈ یونی ورسٹی، کیلے فونیا برکلے اور ایریزونا اسٹیٹ یونی ورسٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔مریخ کی طرف بھیجے جانے والے چاروں مشن فروری 2021 میں سرخ سیارے کے مدار میں پہنچے یا اس کی سطح پر اتریں گے۔ سولر آربیٹرفروری 2020 میں یورپی خلائی ایجنسی ’سولر آربیٹر‘ مشن خلا میں روانہ کرے گی۔ یہ تحقیقی خلائی جہاز کیپ کارنیوال سے اٹلس V راکٹ کے ذریعے خلا میں پہنچے گا۔ اس مشن کا مقصد ماہرین فلکیات کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ ستارے پلازما کا وہ بُلبلہ (plasma bubble) کیسے تخلیق اور کنٹرول کرتے ہیں جو پورے نظام شمسی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔یورپی خلائی ایجنسی نے اس مشن کے لیے ناسا سے اشتراک کیا ہے۔ دونوں بڑے خلائی اداروں کا یہ مشترکہ مشن اس امر کا کھوج لگائے گا کہ یہ دیوہیکل پلازما ببل اندر موجود سیاروں پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔خلاء میں پہنچنے کے بعد سولر آربیٹر زمین اور زہرہ کی کشش ثقل سے مدد لیتے ہوئے اپنے مدار کو سورج کے قطبین سے بالا لے جانے کی کوشش کرے گا۔ یورپی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس عمل سے سورج کے نئے پہلو آشکارا ہوں گے اور پہلی بار سورج کے قطبی علاقوں کی شبیہہ بھی حاصل ہوسکے گی۔

اورین لونر اسپیس کرافٹچاند کی جانب خلائی جہاز ’اورین‘ بھی پہلی بار رواں برس بھیجا جائے گا۔ یہ خلائی جہاز ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگا۔ ایس ایل ایس اب تک تخلیق کیا جانے والا سب سے بڑا راکٹ ہے جو Artemis مشن کے ذریعے خلانوردوں کو چاند پر لے جانے، لونر گیٹ وے اسپیس اسٹیشن کے پرزوں کی خلا میں ترسیل، اور مستقبل میں عالمی خلائی اسٹیشن کی جانب تجارتی مشنوں کی لانچ کے لیے استعمال ہوگا۔Artemis 1 مشن کے تحت اورین اسپیس کرافٹ تین ہفتے خلا میں گزارے گا۔ یہ اورین اسپیس کرافٹ کی خلانوردوں کے بغیر اور آزمائشی لانچ ہوگی۔رواں برس خلانوردوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچانے کے لیے کئی مشن روانہ کیے جائیں گے۔ پہلے دو مشن روس کے  Soyuz اسپیس کرافٹ کے ذریعے روانہ ہوں گے۔ ناسا کے کمرشل پروگرام کے تحت مئی میں ’’Expedition 64‘‘ اور 65 کے ذریعے دو امریکی اور ایک جاپانی خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچیں گے۔

نومبر 2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب روسی  Soyuz اسپیس کرافٹ کے علاوہ کوئی اسپیس کرافٹ لوگوں کو عالمی خلائی اسٹیشن تک لے کر جائے گا۔ بعدازاں دسمبر میں بوئنگ اسٹارلائنر سی ایس ٹی 100  دو چکروں میں دو امریکی، ایک یورپی اور ایک روسی کو عالمی خلائی اسٹیشن کی سیر کرائے گا۔ چینی Tianhe-1 خلائی اسٹیشن کی لانچچینی خلائی اسٹیشن کے پہلے حصے کے پہلے ماڈیول کی لانچ رواں برس متوقع ہے۔ یہ ماڈیول بھی لانگ مارچ 5 راکٹ کے ذریعے ارضی مدار میں پہنچایا جائے گا۔ مرحلہ وار تمام حصے خلا میں پہنچ جانے کے بعد انھیں جوڑ کر خلائی اسٹیشن کی شکل دی جائے گی۔ چینی خلائی اسٹیشن ، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے پانچ گنا چھوٹا ہوگا۔ اس کی تکمیل 2023 میں متوقع ہے۔