آرٹیکلز معلومات

موسم پر قابو

دنیا کو اس وقت موسمیاتی مسائل کا سامنا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ہماری توانائی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی پروڈکشن کے طریقے ہیں۔ کیا ہم ان کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کر سکتے ہیں؟ کیا طوفانوں کی شدت کم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم بارش برسا سکتے ہیں؟ موسم پر قابو ہماری بڑی پرانی خواہش رہی ہے۔ ان کی بھی جو اس کو انسانوں کے لئے بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ خشک سالی یا قدرتی آفات سے بچاوٗ کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کی بھی جو اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خواہشمند رہے ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ اس کی کوشش نہیں کی جاتی رہی۔

موسم بدلنے اک سب سے مشہور طریقہ کلاوٗڈ سیڈنگ ہے۔ یہ بادلوں پر چھوٹے ذرات چھڑکنے کا طریقہ ہے جیسا کہ سلور آئیوڈائیڈ، خشک برف، مائع پروپین یا حال میں یہ کوشش نمک سے بھی کی گئی۔ یہ جہازوں اور راکٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس طریقے پر ستر سال سے کام کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک بحث جاری ہے کہ اس سے فرق کتنا پڑتا ہے۔ اس بارے میں باقاعدہ سائنسی سٹڈی امریکی ریاست وائیومنگ پر چھ سال کے عرصے میں تجربات سے کی گئی اور نتیجہ یہ نکالا گیا کہ اس طریقے سے بارش کا امکان دس فیصد زیادہ ہوا اور یہ اثر علاقے پر منحصر ہے۔ کچھ جگہوں پر زیادہ ہو سکتا ہے، کچھ جگہ پر بالکل بھی نہیں ہو سکتا۔

اس کے دو طریقے ہیں۔ سرد بارش کا طریقہ اور گرم بارش کا طریقہ۔ سرد طریقہ ان جگہوں پر کام کرتا ہے جہاں پر بڑے بادل ہوںاور پانی سُپر کول حالت میں ہو۔ اس میں سیڈ کرنے والا ایجنٹ اس پانی کے ذرات کو ایک نیوکلئیس دیتا ہے جو اوپر کا چکر لگاتے وقت اپنے ساتھ مزید پانی اکٹھا کر کے بڑا ہو جاتے ہیں۔ گرم طریقہ ان بادلوں کے لئے ہے جہاں پر پانی نقطہ انجماد سے نیچے نہیں ہوتا۔ اس کا سیڈ ہائیگروسکوپ ہوتا ہے جو پانی کے ذرات کو جذب کرتا ہے اور یہ بادلوں میں تیرتے ہوئی بھاری ہوتے جائیں۔ دونوں صورتوں میں یہ بھاری ہو کر قطرے بن جاتے ہیں اور بارش کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

البتہ اگر چھڑکا جانے والا سیڈ زیادہ ہو جائے تو اس کا اثر الٹ ہو گا۔ بارش کے لئے یہ ذرات زیادہ ہوں گے اور ہر ذرے پر جمنے والا بخارات اتنے نہیں ہوں گے کہ بارش کا قطرہ بن سکے اور یہاں پر ہم ایک اور بنیادی مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ قدرتی بارش کو یہ سیڈ درکار ہے تا کہ یہ عمل شروع ہو سکے۔ یہ دھول کا ذرہ یا پولن ہو سکتا ہے۔ فوسل فیول، خاص طور پر ڈیزل اور کوئلے کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دھوئیں کے ذرات بھی یہ سیڈ کا کام کر سکتے ہیں۔ یعنی جب آپ گاڑی چلا رہے ہیں یا اپنا ائیر کنڈیشن آن کر رہے ہیں تو غیرارادی طور پر آپ بادلوں کو سیڈ کر رہے ہیں۔ بادلوں کی یہ غیرارادی سیڈنگ موسموں پر بڑا فرق ڈال رہی ہے۔ اگر بادلوں کو یہ آلودگی پہاڑوں پر پہنچنے سے پہلے ہی سیڈ کر دے تو پہاڑوں پر برفباری کم ہو گی، پانی کم ملے گا۔ ٹھیک جگہ پر ان کو سیڈ کرنا برف کو واپس لا سکتا ہے اور پانی کی سپلائی بڑھا سکتا ہے۔

اس بارے میں ایک اور تجربہ ابوظہبی میں کیا جا رہا ہے۔ آئیڈیا یہ ہے کہ منفی چارج والے پارٹیکل آئیون ایمیٹر سے خارج کئے جائیں گے جو اپنے آپ کو قدرتی طور پر موجود کنڈنسیشن نیوکلئیس سے منسلک کر لیں گے۔ چونکہ یہ چارجڈ ہیں، اس لئے یہ دوسرے نیوکلئیس کے ساتھ چپک جائیں گے اور جلد بڑے ہو جائیں گے اور امید یہ کی جا رہی ہے کہ یہ اتنی دیر رہ جائیں گے کہ بارش برسا سکیں جو چارج کے بغیر نہ ہوتی۔ ابھی تک کہا جا رہا ہے کہ مثبت نتائج ملے ہیں لیکن اس پر کچھ بھی ٹھیک کہنے کے لئے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ ایک اور غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ بادل سیڈ کرنے سے کہیں پر بھی بارش یا برفباری کی جا سکتی ہے۔ ایسا نہیں۔ سیڈنگ صرف ان بادلوں کی کی جا سکتی ہے جو بارش برسانے کے قابل ہوں اور اس پر بارش کے امکان پر فرق پڑ سکتا ہے۔ اگر بادل نہیں یا ایسے نہیں کہ بارش کر سکیں یا اونچے سیرس کلاوٗڈ ہیں تو جتنی بھی سیڈنگ کر لیں، کچھ نہیں ہو گا۔ ایسے بادل جو سمندروں سے آئے ہوں، ان پر یہ اثر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

بادلوں کو سیڈ کرنے والے جہاز کے پنکھے اور پروں پر ہوا کا بہاوٗ بھی کچھ حالات میں بادلوں کو سیڈ کر سکتا ہے۔ اس سے بھی یہ جاننے میں مسئلہ ہو جاتا ہے کہ سیڈنگ ایجنٹ کتنا موثر رہا۔ اس بارے میں مسائل کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں ممالک کوشش نہیں کرتے رہے۔ چین نے 2008 میں بادل سیڈ کرنے پر بھاری خرچہ کیا تھا تا کہ اولمپکس کی ابتدائی تقریب میں بارش اور آلودگی نہ ہو۔ چین نے بڑی کامیابی کا دعویٰ کیا لیکن اس کے نتائج خاصے کنفیوزنگ رہے۔ چین نے تبت کی پہاڑیوں پر بادلوں کو سیڈ کرنے کے لئے پانچ سو برنر لگائے تھے جن سے سلور آئیوڈائیڈ پھینکی جاتی ہے تا کہ سولہ لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں برفباری اور بارش بڑھائی جا سکے اور دریاوٗں میں پانی زیادہ ہو سکے۔ البتہ سلور آئیوڈائیڈ کو اب ایک ضرررساں آلودگی پیدا کرنے والے کیمیکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اس لیے اس کا زیادہ استعمال نہیں ہو رہا۔

جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کا اوزار دوسرے کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یہی معاملہ اس کلاوٗڈ سیڈنگ کے ساتھ تھا جبکہ ویت نام کی جنگ میں امریکہ نے ایک خفیہ آپریشن پوپائی 1967 سے 1972 تک کیا۔ اس میں کوشش کی گئی تھی کہ اضافی بارش برسائی جا سکے تا کہ کیچڑ اور پانی سے مخالف فوج کی نقل و حرکت کو مشکل بنایا جا سکے تا کہ ہوچی منہ ٹریل کے ذریعے ہتھیار اور افرادی قوت جنوب میں نہ پہنچ سکے۔ اس کی خبر 1971 میں لیک ہو گئی اور اگلے سال یہ بند کر دیا گیا۔ اس کی تفصیلات نیویارک ٹائمز کے صحافی کے ہاتھ لگ گئی تھیں اور یہ سب اخبار میں شائع ہو گئیں۔ اس پراجیکٹ کے پانچ سالوں نے کیا بارش میں اضافہ کیا؟ اس کے شواہد نہیں کہ اس سیڈنگ کی وجہ سے کوئی فرق پڑا لیکن اس کی تفصیلات سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر اس میں کامیابی ہو بھی جائے تو بھی اثر ایک علاقے تک نہیں رہتا۔ دوسرے علاقے اور ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایک اور سوال یہ کہ کیا تباہی مچا دینے والے سائیکلون اور سمندری طوفانوں کا زور روکا جا سکتا ہے؟ جنرل الیکٹرک اور امریکہ کی آرمی کور نے اشتراک سے اس پر پراجیکٹ سائیرس شروع کیا۔ تھیوری یہ تھی کہ خشک برف کے ذریعے طوفان کا مرکز بدلا جا سکے اور اس کو کمزور کیا جا سکے۔ جس طوفان پر سب سے پہلے یہ سیڈنگ 1947 میں کی گئی، اس نے فوراً بعد مغرب کا رخ کیا اور جارجیا ریاست کے علاقے سے ٹکرا گیا۔ اس کا قصوروار اس سیڈنگ کو ٹھہرایا گیا اور مزید تجربات روک دئے گئے۔ بعد میں دریافت ہوا کہ اس کا تعلق غالباً سیڈنگ سے بالکل بھی نہیں تھا، ایک اور طوفان بھی بالکل یہی راستہ لے چکا تھا۔ طوفان کمزور کرنے کی اگلی کوشش 1962 میں سلور آئیوڈائیڈ کی مدد سے ہوئی کہ اس سے سپرکول پانی فریز ہو کر اس کے سٹرکچر میں خلل ڈالے گا اور اس کی شدت میں کمی آئے گی۔ دو سال جاری رہنے والی یہ کوشش ناکامی کا شکار رہی۔

نیوکلئیر ہتھیار سے طوفان کمزور کرنے کا خیال 1959 میں پیش ہوا کہ طوفان کے بالکل اوپر بم پھاڑا جائے۔ یہاں پر خلا پُر کرنے کے لئے سرد ہوا تیزی سے اوپر کو جائے گی اور اس کا سٹرکچر توڑ دے گی۔ اس میں چند بڑے مسائل تھے۔ اول تو یہ کہ تابکار بارش اور ہوا وسیع رقبے کو متاثر کریں گے۔ دوسرا یہ کہ طوفان حرارت کے انجن ہیں۔ یہ حرات ان کو کمزور کرنے کے بجائے مزید طاقتور کر سکتی ہے اور تیسرا یہ کہ ایک عام سمندری طوفان اس قدر توانائی رکھتا ہے جیسا کہ ہر بیس منٹ کے بعد دس میگاٹن کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہو۔ کسی بھی اثر کے لئے کئی بم درکار ہوں گے۔ طوفان چونکہ صرف ہوا اور آبی بخارات ہوتا ہے، اس لئے شاک ویو اثر نہیں کرے گی۔ یہ جلد ہی اضافی حرارت کے ساتھ واپس مل جائے گا۔ اس پر بحث کے بعد یہ آئیڈیا ترک کر دیا گیا۔

طوفان جب بڑے ہو جائیں، اس وقت ان پر اثرانداز ہونا ناممکن ہے لیکن کیا ان کو بننے سے روکا جا سکتا ہے؟ سمندری طوفان بننے کے لئے سمندر کا درجہ حرارت ساڑھے چھبیس ڈگری سے زیادہ ہونا چاہیے۔ سمندر کی سطح کو ٹھنڈا رکھنے کا پائلٹ واٹر پاور پمپ لگا کر کیا گیا۔ یہ ناکام رہا۔ لہریں پمپس کو ناکارہ کر دیتی تھیں۔ برف جمنے سے روکنے کے لئے ایک تجربہ ناروے نے کیا۔ اس میں گہرے سمندر میں ہوا پمپ کی گئی۔ بلبلے گہرائی سے نمکین پانی سطح پر لا کر برف بننے کی رفتار کم کر سکتے ہیں۔ گرم پانی میں یہ طریقہ سرد پانی کو سطح پر لا سکتا ہے اور طوفانوں کی شدت کم کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے جتنے پمپ درکار ہوں گے، ان کی تعداد اور ان کا کور کرنے والا رقبہ بہت زیادہ ہو گا۔

ایک اور آئیڈیا بادلوں پر سمندر کے پانی کا چھڑکاوٗ کرنا ہے۔ اس سے وہ سورج کی روشنی کا انعکاس زیادہ کر سکتے ہیں اور نیچے ہوا اور پانی کا درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے۔ یہ طریقہ گلوبل وارمنگ سے نبرد آزما ہونے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ لیکن اگر اس کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو موسم کیسے بدلے گا اور آبی حیات کو کیا فرق پڑے گا۔ اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

موسم کے ساتھ تجربات کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ ان میں یہ جاننا بھی مشکل ہے کہ کونسا تجربہ کامیاب رہا۔ اگر سیڈ کرنے سے بادل برس پڑا تو یہ معلوم کیسے کیا جائے کہ اگر اس کو سیڈ نہ کیا جاتا تو کیا ہوتا۔ اس کو جاننے کے لئے کئی برس تک کنٹرول تجربات کر کے ہی کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ ایک طرف یہ تجربات اور ان کے نتائج کو جاننا انتہائی ضروری بھی ہے۔ اس کی وجہ کلائمیٹ کی تبدیلی ہے۔ ہم اپنی پوری کوشش سے موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کم کر سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کو پلٹا نہیں سکتے، روک نہیں سکتے۔ موسم پر تجربات ناگزیر ہیں۔ دوسری طرف یہ خطرے سے خالی نہیں۔ اس کی وجہ یہ اگر کسی بھی تبدیلی میں کامیاب ہوں کی وجہ سے غیرارادی اور غیرمتوقع نتائج نکل سکتے ہیں۔ موسم ایک انتہائی پیچیدہ نظام ہے۔ (فلوئیڈ ڈائنامکس، کوانٹم مکینکس سے زیادہ پیچیدہ ہے)۔ جیو انجینرنگ متنازعہ ہے۔ اس کے نہ صرف ٹیکنیکل پہلو خاصے پیچیدہ ہیں بلکہ سوشل اور سیاسی پہلو بھی۔ کئی دہائیوں سے کوشش جاری ہے لیکن موسم پر کسی قسم کا قابو پانے میں ابھی تک خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ اس پر نت نئے خیالات اور تجربے جاری ہیں۔