آرٹیکلز

ناک

ظفر صاحب ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ خوشامد اور چاپلوسی کا فن جانتے تھے اس لئے ہر وقت اپني CEO جناب تیمور چنگیزی کی چمچہ گیری میں لگے رہتے تھے۔ تیمور چنگیزی ایک سخت گیر اور ڈسپلن کے پابند انسان تھے۔۔۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کی ناک انتہائ غیر معمولی طور پر لمبی اور نتھنے انتہائ کشادہ تھے۔۔۔ ایک ایسی ناک کہ جس کا کوئ بھی شخص نوٹس لئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔۔ خود تیمور صاحب بھی اپنی ناک کے بارے میں انتہائ حساس تھے۔ ان کے کانوں میں زرا بھنک بھی پڑ جاتی کہ ان کے اسْٹاف کا کوئ شْخص ان ی ناک کا مزاق اڑاتا ہے یا ان کی ناک کے بارے میں بات کرتا ہے تو اس کو ملازمت سے فارْغ کردیا جاتا تھا،۔۔بعض اوقات گو وہ تشدد پر بھی اتر آتے تھے۔ تیمور صاحب کی موجودگی میں اگر کسی کے منہ سے بھولے سے بھی ناک کا لفظ نکل جاتا تو آفس میں بھونچال آ جاتا۔۔سب انتہائ محتاط رہتے اور ناک کا لفظ یا ذکر کرنا گویا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔

آفس کا مینیجر دبئ شفْٹ ہو رہا تھا اور ظفر صاحب کو پورا یقین تھا یہ سیٹ خالی ہوتے ہی تیمور صاحب یہ عہدہ ان کو ہی دیں گے۔۔اس لئے آجکل کچھ زیادہ ہی خوشامدی درباری بنے ہوئے تھے۔ چپراسی کے بجائے خود ان کا بریف کیس گاڑی تک لے جاتے۔ ادب سے دروازہ کھول کر تیمور صاحب کے گاڑی میں بیٹھنے تک مودب کھڑے رہتے جب تک کہ گاڑی آفس کے کمپائونڈ سے باہر نہ نکل جاتی۔ ظفر صاحب کافی دن سے سوچ رہے تھے کی تیمور ْصاحب کو ایک شاندار ڈنر پر مدعو کریں لیکن خوف یہ تھا کہ ان کے بچے اگر کہیں تیمور صاحب کی ناک کے بارے میں کچھ کہہ بیْٹھے تو سارا پلان اور پروموشن دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔۔

ایک ہفتہ تک گھر میں بچوں کی ٹریننگ ہوتی رہی کہ جب تیمور صاحب گھر آئیں تو کوئ بھی ان کی ناک کے بارے میں کوئ بات نہیں کرے گا۔ گڈو سے سائیکل دلانے کا وعدہ کیا اور بیٹی کو چھٹیوں میں مری اور سوات لے جانے کا وعدہ بھی کرلیا۔ بیگم کو بھی اچھی طرح سمجھا دیا۔۔ بہرحال وہ دن آگیا کہ جب تیمور صاحب ڈنر پر ظفر صاحب کے گھر رونق افروز ہوئے۔ بچوں نے ادب سے سلام کیا اور گلاب کا گلدستہ پیش کیا انتہائ خوشگوار ماحول میں انتہائ لزیز ڈنر سے لطف اندوز ہونے کے بعد بچے تو بیڈ روم میں چلے گئے۔ ادھر ظفر صاحب کی بیگم تہمینہ جو کہ بے حد ٹینشن میں تھیں۔ خدا کا شکر ادا کر رہی تھیں کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ گئے اور بچوں نے ایسی کوئ بات نہیں کی جو کہ تیمور صاحب کے غصے کا پارہ ہائ کردیتی۔

اس کے دماْغ میں بس ایک ہی لفظ گونج رہا تھا۔ ناک، ناک ناک۔۔ ناک کے بارے میں کوئ بات نہیں۔۔۔ ناک کا لفظ بھی گفتگو میں نہ ْآئے۔۔ ناک، ناک۔۔ ادھر ڈنر سے فارغ ہو کر تیمور صاحب اور ظفر سگار نوشی کر رہے تھے۔۔۔ بس کافی پلانا باقی رہ گیا تھا۔ اس کے بعد یہ مصیبت سے جان چھٹتی۔۔۔ کافی لے کر تہمینہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئ۔ ٹرے کافی ٹیبل پر رکھی اور کافی بنانے لگی۔۔۔ اس کے دماغ میں تیمور صاحب کی ناک سے نکلتے سگار کے دھوئیں کو دیکھ فیکٹری کی چمنی یاد آگئ- کر ایک بار پھر لفظ ناک کی گردان ہونے لگی اور ساتھ ہی ایک تسلی اور سکون بھی کہ سب کچھ خیریت سے ہو گیا۔ ناک کی کوئ بات نہیں ہوئ۔ ورنہ اگر ناک کے بارے میں کوئ بات ہو جاتی تو ناک ہی کٹ جاتی۔ ناک میں دم ہی کردیا اس ناک نے آج تو—— ویسے بہت ہی عجیب اور بْڑی ناک ہے۔ ناک نہ هوئ گویا پھکنی ہو گئ۔۔۔ ایسی خوفناک ناک ناک ناک۔۔۔۔۔ اف میں ناک كے بارے میں اتنا کیوں سوچ رہی ہوں؟۔۔۔۔۔ناک کے بارے اتنا سوچنا خطرناک بھی ہوسکتا ہے—- دفع کرو ناک کو—-یہی سوچتے سوچتے اس نے تیمور صاحب کی کافی کی پیالی بناتے ہوئے پوچھا۔” سر آپ کی ناک میں کتنے چمچ چینی ڈالوں؟’