آرٹیکلز ارٹیکلز آپکی آواز

ہمارے اخلاق کی حالیہ صورت حال

کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے:کونسی؟وہ چھوٹے سے قد کی؟بڑے سے منہ والی؟ جو یوں چلتی تھی؟ (نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے)کونسا؟وہ گنجا؟موٹی گردن والا؟وہ جو خود اتنا "کوجا” ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے؟ہم سورۃ التین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طورِ سینا کی اور امن والے اس شہر کی بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا لیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے۔ کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں، کسی کو چھوٹا ہونے پر، کسی کا رنگ کالا، کسی کی ناک موٹی، بالوں پر تبصرے، ہونٹوں پر باتیں۔۔ حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔ یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے

لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا تو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے، قد کاٹھ کا مذاق اڑا رہے ہیں تو کس ذات کا مذاق اڑانے کے مرتکب ہو رہے ہیں، یہ جاننا زیادہ مشکل نہیں۔وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو احسن التقویم (بہترین ساخت) پر بنایا ہے لیکن ہمیں دوسروں کا مذق اڑاتے وقت یہ یاد ہی کب رہتا ہے!یہاں ایک بات اور قابلِ ذکر ہے کہ ہم اگر ایک دوسرے کی شکل کا مذاق نہ بھی اڑاتے ہوں تو بھی مختلف جغرافیائی علاقوں میں رہنے والوں کے لئے ہم بغیر سوچے سمجھے ایسے الفاظ ادا کر دیتے ہیں۔ چائنیز لوگوں کا ذکر ہو تو ممکن نہیں کہ ان کے قد اور ناک کا، ان کی آنکھوں کا ذکر نہ کریں۔ عموماً پھینی/چپٹی ناک والے کہہ کر انکی طرف refer کیا جاتا ہے۔ اسی طرح افریقن لوگوں کے گھنگریالے بال، چوڑی جسامت، اور بھرے ہونٹوں کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کو تخلیق کرنے والا بھی وہی مصور ہے جس نے ہمیں خوبصورت بنایا۔

شعب الإيمان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے :اللهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي ، فَأَحْسِنْ خُلُقِي  اے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں (ظاہراً) خوبصورت بنایا ہے، ہمارا (اندر) کردار بھی خوبصورت بنا دے۔روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے:”Great minds discuss ideasAverage minds discuss eventsSmall minds discuss people.”اس کی روشنی میں اپنی گفتگو اور اپنے آپ کو پرکھنے سے ہم بڑی آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا شمار کس کیٹیگری میں ہوتا ہے۔