آرٹیکلز معلومات

شخص

دماغ کو نقصان پہنچ جانے میں کسی کی شخصیت بدل جانے کے نیوروسائنس میں ہزاروں واقعات ہیں جو ہمیں دماغ کے کام کرنے کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ کوٹراڈ سنڈروم، جس کا شکار مریض یہ سمجھتا ہے کہ وہ فوت ہو چکا ہے اور اس کی لاش پھر رہی ہے۔ کیپ گراس سنڈروم کا شکار ہو جانے والے جو اپنے عزیزوں کو جعلی انسان سمجھتے ہیں۔ سٹروک کے ایسے شکار جن کو اپنے مفلوج ہو جانے کا ادراک بھی نہیں ہوتا (امریکی صدر وڈرو ولسن اور سپریم کورٹ کے جج ولیم ڈگلس اس کا شکار رہے) کورساکوف سنڈروم، جس کا شکار اپنی حالت کے بارے میں مسلسل جھوٹی کہانیاں بناتا رہتا ہے۔ وہ جو کچھ یاد نہیں رکھ پاتے، وہ جو کچھ بھول نہں سکتے۔ وہ، جو کسی کو پہچان نہیں پاتے۔ وہ، جن کے دماغ پر کوئی چوٹ ان کی شخصیت ہی الٹا کر رکھ دیتی ہے شخصیت دماغ کے سٹرکچر اور اس میں موجود کیمیکل سوپ سے برآمد ہوتی ہے

سب سے بری حالت والا دماغی مریض بھی ایک چیز کبھی نیہں بھولتا۔ خود کو، کہ وہ کچھ ہیں۔ ایک فرد ہیں اور کچھ شناخت رکھتے ہیں۔ مثلا، ایمنیسا کے شکار یہ کہیں گے کہ وہ بے صبرے ہیں یا کنجوس ہیں یا کچھ اور۔ وہ اپنے اندر جھانک کر کسی قسم کی یاد اور اپنی شناخت ڈھونڈ نکالیں گے۔ اپنی شناخت بڑا طاقتور احساس ہے۔ دماغی ضرر کی ایک بدترین مثال کے لئے نیچے لنک میں کلائیو وئیرنگ کے بارے میں دیا گیا آرٹیکل دیکھا جا سکتا ہے۔

شناخت کا اس قدر زور آور ہونے کی ایک واضح مثال کینیڈا سے تعلق رکھنے والی کرسٹا اور ٹاتیانہ ہیں۔ دو جڑواں بہنیں، جن کے پیدائشی طور پر سر ملے ہوئے تھے اور الگ کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتیں لیکن ٹھیک طریقے سے چل سکتی ہیں۔ ان کے سروں میں ان کے دماغوں کے درمیان ایک پُل بنا ہے۔ یہ تھیلیمک برج میڈیکل ہسٹری میں منفرد ہے۔ جس طرح یہ بڑی ہوتی جا رہی ہیں، اس کا حیران کر دینا والا مشاہدہ ملتا جا رہا ہے۔ اکثر یہ بالکل اکٹھا ایک ہی چیز بولتی ہیں، جیسے کوئی ریڈیو سپیکر ہو۔ ایک کے منہ میں جو ہو، اس کا ذائقا دوسرے کو بھی محسوس ہوتا ہے۔ ایک کا بلڈ ٹیسٹ لینے کے لئے سوئی چبھوئی جائے تو دوسرے کے چہرے پر تاثرات نمودار ہوتے ہیں۔ دونوں جب سونے کے لئے لیٹیں تو اکٹھا ایک ہی وقت سوتی ہیں اور شاید خواب بھی مشترک ہوتے ہیں۔

ان دونوں کو ایک دوسرے کے شعور تک رسائی ہے اور دونوں بہنیں اپنی اور دوسرے کی سوچ اور احساس میں تمیز نہیں کر سکتیں۔ “میں” اور “ہم” کا فرق نہیں کر سکتیں۔ اگر ایک نے ایک کاغذ پکڑا ہو، دوسری نے ووسرا تو کہیں گی کہ “میں نے دو کاغذ پکڑے ہوئے ہیں”۔ لیکن پھر بھی، ایک دوسرے کا شعور شئیر کرنے کے باوجود دونوں اپنی انفرادیت دکھاتی ہیں۔ کھانے میں دونوں کی پسند مختلف ہے۔ ایک کو مکئی پسند ہے، جب وہ کھاتی ہے تو بہن منہ بناتی ہے۔ دونوں بہنیں لڑ پڑتی ہیں۔ بال کھینچتی ہیں، منہ نوچتی ہیں اور مکے مارتی ہیں۔ کچھ عجیب منظر ہوتا ہے کیونکہ اگر ایک بہت دوسرے کے تھپڑ مارتی ہے تو تکلیف خود کو بھی ہوتی ہے۔ اپنی انفرادیت اس قدر عزیز ہے کہ کئی بار بغیر وجہ کہ ان میں سے ایک بہن یہ فقرہ کہہ اٹھتی ہے، “میں صرف میں ہی ہوں” جو کہ اپنی آزادی کی ضرورت اور جبلت کا اعلان ہے۔

خاص ذہن رکھنے والے سائیکلوجسٹ نفی کرتے آئے ہیں کہ لوگوں کا کوئی بھی فکسڈ کور یا فکسڈ سیلف ہوتا ہے۔ اور ہم جس قدر زیادہ اور تیزی سے اپنا کردار اور شخصیت بدلتے ہیں، وقت اور حالات کے مطابق اور اس چیز کے حساب سے کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں، ان سائیکلولوجسٹس کی بات میں وزن بھی ہے لیکن نیورولوجیکلی، ہمارا کور برین سرکٹ ہے جو شناخت بناتا ہے۔ اپنی شخصیت کا یہ احساس کئی طرح کے دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ اپنی یادیں، اپنی فزیکل شکل، وقت میں تسلسل کا احساس، ذاتی ایجنسی کا احساس، اپنی ذاتی خاصیتیوں کے بارے میں علم وغیرہ۔

شخصیت کی دھنک محض کسی ایک دھاگے سے نہیں بنُی گئی۔ لوگ یادیں بھول جاتے ہیں، اپنے چہروں سے محروم ہو جاتے ہیں، وقت کا تسلسل گنوا دیتے ہیں، ایلئن ہینڈ سنڈروم والے اپنے اعمال پر کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن یہ تمام کے تمام لوگ، ایک چیز میں مشترک ہیں، اپنے ہونے کے احساس میں۔ اپنی انفرادیت میں۔ شعور کی طرح یہ سیلف بھی خود ایک چیز نہیں، اندرونی بائیولوجی کی آبادی میں ہونے والا پراسس ہے۔ اور یہ اس “خود” کو زبردست بناتا ہے۔ زندگی میں آنے والے کسی بھی انقلاب سے زیادہ مضبوط۔ حادثہ ہو یا کچھ اور۔ دوسرے جو بھی کہیں۔ بدل جانے والے کے لئے بھی “خود” اور اس کا بنیادی کور کبھی نہیں بدلتا۔