آرٹیکلز

سوشل میڈیا کا عفریت، کیا کیا جائے؟

پوری دنیا میں سوشل میڈیا عام آدمی کی زندگی میں اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ اب تو خوشی غمی کی اطلاع بھی سوشل میڈیا سے ہی دی جانے لگی ہے۔ غیر محسوس طریقے سے اس کی عادت ہمیں تعمیر بھی دے رہی ہے اور رتخریب بھی۔ مگر اس کے تخریب کے پہلو کو مد نظر رکھ کر ہم اس کو مکمل نہ تو بند کر سکتے ہیں نہ ہی اس پہ ایسی قدغن لگانا مناسب لگتا ہے جو اس کی تعمیری سرگرمیوں کو بھی زک پہنچا دے۔ امریکہ جیسی عالمی قوت ہو یا ایتھوپیا جیسا پسماندہ ملک، ہر جگہ سوشل میڈیا نہ صرف رابطے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے بلکہ معلومات و اطلاعات کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اور اب ایک خیال یہ بھی تقویت پا رہا ہے کہ اس کو الیکڑانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے بعد تیسرا بہترین میڈیم بھی گردانا جا رہا ہے اس کی افادیت اس بات سے ظاہر ہے کہ الیکڑانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا بھی اپنی ریٹنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا کے محتاج ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں نوے کی دہائی میں انٹرنیٹ تک رسائی ممکن ہو چکی تھی مگر اصل عروج سن دو ہزار کے بعد دیکھنے میں آیا۔ تعلیم کا معیار بلند ہوا تو اس میں سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کا فن بھی پنپتا گیا۔ آج ایک بحث جنم لے رہی ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا تعمیر کے بجائے تخریب کا زیادہ سبب بن رہا ہے۔ مگر کیا اس کو بند کر دینا چاہیے؟ مسلح افواج پاکستان کی سالمیت کی ضامن ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں ملک میں انصاف کا بول بالا کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ اور پاکستان میں اس وقت ان دونوں اداروں پہ تنقید کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی زیر عتاب ہے۔ کوئی شک نہیں کہ مسلح افواج پہ شتر بے مہار تنقید سرحدوں پہ موجود جوانوں کا مورال بھی متاثر کر سکتی ہے اور عدلیہ پہ بے سروپا تنقید اس ادارے کی حرمت پہ ضرب لگانے کے مترادف ہے، لیکن اس کے باجود کیا حل سوشل میڈیا پہ آمرانہ دباؤ ہی ہے؟ یا اس پہ پابندی لگا دینا ہی حل ہے؟

پوری دنیا میں اہم ترین ادارے اب سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ آزادی ء رائے کی منطق دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ تو ہم کیوں سوشل میڈیا کے جن کو قابو کرنے کے لیے بے تکے اقدامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ سب سے پہلی ذمہ داروں اداروں کی ہے۔ حساس اداروں سے لے کر خدمات عامہ کے اداروں تک ہر ادارے کی ذمہ داری اگر بنا دی جائے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے پانچ افراد کا ایک شعبہ ترتیب دیں۔ جس کا کام ہی یہ ہو کہ وہ سوشل میڈیا پہ اس ادارے سے متعلق کسی بھی قسم کی تنقید کا جائزہ لے اگر تو تنقید واقعی حقیقی وجود رکھتی ہو تو اس کو ارباب اختیار تک پہنچا کر اس تنقید کو ختم کیجیے۔ اور اگر یہ تنقید صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے تو اس کو ایف آئی کے سائبر کرائم ونگ کو باقاعدہ ایک شکایت کی صورت میں ریفر کر دیجیے۔اور ایف آئی ائے ایسے اقدامات کرئے کہ سوشل میڈیا پہ جعلی اکاؤنٹس کی بھرمار نہ ہو، اس سلسلے میں تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس سے گذارش کی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں اکاؤنٹس کی تصدیق کا لائحہ عمل بنایا جائے۔تا کہ تنقید کرنے والے کی شناخت مبہم نہ ہو۔یہ مشکل ہے ناممکن نہیں کہ جلد ہی تصدیق شدہ اکاؤنٹس ہی باقی رہیں گے۔ مگر تنقید پہ مکمل پابندی لگا دینے سے اداروں کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شکوک مزید جنم لیں گے۔ مسلح افواج اور عدلیہ پہ ایسی تنقید جس سے ان اداروں کی عزت پہ حرف لانا ہی مقصود ہو یقیناًسختی سے بیخ کرنی کی متقاضی ہے مگر ان اداروں کو بھی اندرونی طور پر ایک نظام وضح کرنا چاہیے کہ وہ خود عوام سے کہیں کہ ہم تنقید سہنے کو تیار ہیں، ساتھ ہی یہ پیغام بھی عام ہو کہ تعمیری تنقید کے لیے ہم حاضر، اور فضول تنقید پہ لاٹھی کا وار بھی کار آمد ہو گا۔

کسی بھی چیز کے منفی رجحانات کی وجہ سے ہم اس کی افادیت کو ترک نہیں کر سکتے ۔ جس دور میں پوری دنیا میں سوشل میڈیا سب سے اہم میڈیم کا درجہ پاتا جا رہا ہے ہم کیسے اس پہ پابندی یا سخت قدغن لگا سکتے ہیں۔ تنقید پہ غصہ کرنے کے بجائے تنقید کو بہتری کا ذریعہ بنائیں، تھوڑا جائزہ لیجیے کے تنقید کرنے والے کی نیت کیا ہے، کہیں واقعی ایسا تو نہیں کہ اس کی بجا تنقید پہ بھی ہم نے نو گو ایریا جیسا رویہ روا رکھ چھوڑا ہے۔ اس میڈیم کو ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں مگر اس پہ اس طرح سے قدغن بھی نہ لگائیں کہ محسوس ہو کہ سوشل میڈیا یوزرز خدانخواستہ اس ملک کے شہری ہی نہیں ہیں۔ ادارے تنقید کو ہتک کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنا لیں تو یقین مانیے بہت جلد سوشل میڈیا کی منفی سرگرمیوں پہ مثبت سرگرمیاں بازی لے جائیں گی ۔ ملک میں ایک ہیجان کی فضاء پیدا کرنے کے بجائے اداروں کے اندر ان اداروں سے متعلق سوشل میڈیا کی تنقید کے حوالے سے باقاعدہ نظام مرتب کیجیے۔ ۔ تنقید بری نہیں ہوتی، یہ دیکھا جانا چاہیے کہ تنقید کی نیت تو بری نہیں۔ ۔ ۔