آرٹیکلز

توجہ کے مستحق خاص لوگ!

معذوری کیا ہے؟ معذوری بددعا نہیں بلکہ قدرت کی تخلیق ہے، اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسے افراد کی خدمت سارے انسانیت کی خدمت ہے تو شاید بالکل بھی غلط نہ ہوگا۔ بے شک معذور افراد امداد اور محبت کے مستحق ہوتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس طرح سماج میں صحتمند انسان کو جینے کا پورا حق ہے، اسی طرح معذور کو بھی پورا حق دیا گیا ہے۔ عام انسان کو چاہیئے کہ سماج کے کسی بھی انسان کو نیچے گر کر نہ دیکھیں۔ معذورین کے اندر قدرتی طور پر کافی صلاحیتیں ہوتی ہیں، جسم کا اگر کوئی حصہ ناکارہ ہوجاتا ہے تو قدرت معذورین کی دوسرے طریقے سے مدد کرتی ہے۔

معاشرے میں معذورین کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنے کے ساتھ ساتھ پرانے زمانے میں قدرت کا عذاب تصور کیا جاتا تھا، جبکہ اس طرح کے خیال یا تصور سے معذورین کی دل شکنی ہوتی ہے۔ اُنہیں نفرت نہیں بلکہ شفقت کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ہمارے سماج کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور اُنہیں معذور تصور کرنے کے بجائے اُن کی دیکھ بھال ایک عام انسان کی طرح کی جانی چاہئیے۔ ہمارے ہاں ایک بد تہذیبی یہ بھی ہے کہ اکثر و بیشتر ایسے افراد کی تضحیک کی جاتی ہے یا اُن کے بارے میں بہت ہی خاص رویہ اپنالیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی ماورائی مخلوق ہوں۔

معذور افراد انسانی معاشرے کا وہ حصہ ہیں جو عام افراد کی نسبت زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ معذوروں کو نظر انداز کرنے یا انہیں معاشرے میں قابلِ احترام مقام سے محروم رکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اسلام تکریمِ انسانیت کا علمبردار دین ہے، چونکہ معذور افراد معاشرے میں اپنی شناخت اور وقار کے لئے خصوصی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ وہ تمام حقوق جو عام افراد کو معاشرے میں میسر ہیں، معذور افراد بھی اُن حقوق کے مستحق ہیں۔
مذہب کا درس تو یہ ہے کہ ہمیں صرف معذور ہی نہیں بلکہ ہر انسان کا ساتھ دینا چاہیئے، لیکن عملی طور پر معاشرے میں اُن کا ساتھ دینے والے کم ہی نظر آتے ہیں۔ جسمانی معزورین کی فلاح و بہبودی کے لئے حکومت بہت سی اسکیمیں لاگو کرتی ہے، جس کا استعمال کرکے معزورین خود کفیل بن سکتے ہیں اور کسی پر بوجھ بننے کے بجائے خود مختاری سے زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ اِن تمام اسکیموں سے اِن خصوصی افراد کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے مگر وہ خاص افراد ان تمام اسکیموں اور اعلانات سے ناآشنا ہوتے ہیں۔

کراچی کی آبادی تقریباً 2 کروڑ 43 لاکھ ہے، جس میں 20 لاکھ معذور افراد رہتے ہیں مگر اِس مرتبہ مردم شمادی میں معذورین کا خانہ نہ ڈال کر معذورین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حکومت کے نوٹیفکیشن کے باوجود کراچی کی کسی بھی بلڈنگ، مسجد، اسکول میں معذور افراد کے لئے خاطر خواہ سہولیات میسر نہیں کی گئیں۔ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو لازماً یہ یقینی بنانا چاہیئے کہ اُن کی سہولیات اور خدمات قابلِ رسائی ہیں، اور معذور طلباء کی ضروریات کے مطابق ہیں۔ معاشرے میں معذور افراد کو کن کن طریقے سے سہولیات فراہم کی جانی چاہیے، آئیے اِس پر کچھ بات کرتے ہیں۔

معذور گاہکوں، طلبہ اور کرائے داروں کو بھی مساوی سلوک اور سہولیات اور خدمات تک مساوی رسائی کا حق حاصل ہے۔ حکومت ملازمتوں میں معذور افراد کے 2 فیصد کوٹے پر عمل درآمد کروائے، تاکہ معذور افراد بھیک مانگنے کے بجائے باعزت روزگار اختیار کرسکیں۔ معذورین کو خود سے بھی کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے، جیسے اپنے پاس مقامی حکومتی نمائندوں کے فون نمبرز رکھے، کئی مقامی دفاتر معذور افراد کی فہرستیں اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اگر اُن میں آپ کا، یا آپ کے رشتہ دار و دوست احباب کا نام شامل نہیں ہے تو فوری اندراج کرائیں تاکہ کسی بھی اچانک واقع ہونے والی ہنگامی صورت حال میں تلاش کیا جاسکے۔ اپنے ایمپلائر یونین، مالک مکان یا خدمت فراہم کرنے والے کو آگاہ کریں کہ آپ کی ملازمت کی ذمہ داریوں، رہائش یا فراہم کردہ خدمات سے منسلک آپ کی ضروریات کیا ہیں؟ جہاں ضرورت پڑے وہاں اپنی معذوری سے وابستہ ضروریات کے بارے میں معاون معلومات فراہم کریں۔

اگر آپ کہیں سے علاج کروا رہے ہوں تو گھر پر احباب کو اس جگہ کے بارے میں ضرور بتائیں، اگر آپ وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں تو دوسروں کو اپنی وہیل چئیر استعمال کرنا سکھائیں۔ معاشرے میں ایسے رویے ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جو معذور افراد کی قدر و قیمت کم کرتے ہیں اور اُن کی صلاحیتوں کو محدود کرتے ہیں، اِس لیے ایسے رویوں کی روک تھام ضروری ہے۔ اُنہیں برسرِ روزگار بنانے کی ذمہ داری اسی معاشرے اور حکومتِ وقت کی ہے، اِس کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ملازم پیشہ معذور افراد بالکل انہی مواقع اور عنایتوں کے مستحق ہیں جیسے کہ صحتمند ملازمین ہیں، بعض اوقات انہیں مخصوص بندوبست یا ’’مطابقت پذیری‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی ملازمت کی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دے سکیں۔ ایسے موقع پر صحتمند شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اُن کا ساتھ دیں اور ان کی معاونت کریں تاکہ وہ اپنا کام احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔