آرٹیکلز

وقت کے سبق سے پہلے سیکھ جاؤ

روز شام کو پارک میں دوڑتے ہوئے تیسرے چکر پر ہمارا مسکراہٹ کا تبادلہ اور پانچویں چکر پر مصافحہ ہوتا۔ میں ہمیشہ کی طرح جاگنگ کے بعد موبائل نکال کر بیٹھ جاتا اور وہ دوڑتے رہتے۔ پھر بینچ پر بیٹھتے ہی پوچھتے کہ نوکری کیسی چل رہی ہے؟ کیا سیکھ رہے ہو؟ اور میں اپنا روایتی راگ کمپنی کے منافع سے شروع کرتا، وژن مشن کی راہداریوں سے گزارتے ہوئے اِس بات پر ختم کرتا کہ متبادل روزگار کے مواقع بہت کم ہیں۔ وہ ہمیشہ کی طرح نصیحت کرتے ہوئے اپنی راہ لیتے کہ جو کام بھی کررہے ہو پوری لگن کے ساتھ کرو گے تو سیکھو گے بھی اور آگے بڑھنے میں بھی آسانی ہوگی۔

ایک شام جب وہ پانچویں چکر کے بعد ہی میرے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئے تو میں نے موبائل نکالنے کے بجائے اُن سے سوال جواب شروع کردئیے کہ آپ بھی تو کبھی مجھے اپنی پروفیشنل لائف کا تجربہ بتائیے یا مجھے انہی دو سطری نصیحت سے ہی کہانی سمجھنی ہوگی۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے، تمہاری طرح میں نے بھی زندگی کی کشتی پر بہت ہچکولے کھائے ہیں۔ جن سب سے تم آج پریشان ہوکر ہاتھ پاؤں مار کر راہ فرار ڈھونڈ رہے ہو، خوش قسمتی سے میرا واسطہ نوکری کے دوسرے دن ہی پڑ گیا تھا۔ میری دلچسپی اب ان کی جانب مزید بڑھ گئی تھی۔ یونیورسٹی سے گریجوشن کے بعد زیادہ تر دوستوں نے اپنے کاروبار سنبھال لئے، جبکہ میرے پاس ملازمت کے علاوہ کوئی چوائس نہ تھی۔ میں نے نوکری ڈھونڈنی شروع کردی۔ دوستوں، رشتہ داروں کے حوالے استعمال کئے پر کام نہ آسکے، لیکن میں نے بھی ہمت نہیں ہاری اور انٹرن شپس پر بھی اپلائی کرنا شروع کردیا۔

خوش قسمتی سے مجھے ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے انٹرویو کے لیے بلالیا۔ مجھے انٹرن شپ کی آفر ہوگئی۔ یونیورسٹی سے آخری سمیسٹر میں ملنے والے وظیفے کی رقم سے میرا آنے جانے کا کرایہ پورا ہورہا تھا۔ پہلا دن نہایت خوشگوار تھا، میری باس میڈیم خان تھیں جنہوں نے میرا انٹرویو کیا تھا، میڈیم نے مجھے ویلکم کارڈ دیا اور پروجیکٹ سمجھادیا جو کہ میں نے 6 ہفتوں میں مکمل کرنا تھا۔ اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کے بعد میں نے ذہنی طور پر خود کو تیار کرلیا کہ کیسے میں بہتر پرفارم کرسکتا ہوں۔ دوسرے دن میں ایک نئے جذبے کے ساتھ آفس پہنچا تو ماحول قدرے مختلف محسوس ہوا۔ باس نے مجھے باہر کھڑے ہونے کا کہا، کیوںکہ انہوں نے پلکوں کی تراش خراش کرنی تھی۔ پندرہ منٹ کھڑے ہونے کے بعد میں نے جب خود اندر جھانکا تو انہیں خیال آیا کہ مجھے باہر کھڑے ہونے کا کہا گیا تھا۔

کچھ دیر کے بعد مجھے کچھ دستاویزات فوٹو کاپی کروانے کے لئے کہا گیا جس کے لئے دوسری منزل پر مشین تھی۔ جب میں فوٹو کاپی کروا کر واپس آیا تو مجھے پھر اُنہی دستاویزات کو اسکین کرکے میل کرنے کا کہا گیا۔ جب میں میل کرکے واپس آیا تو میری باس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ مجھے ہڈحرام سے لے کر احمق اور کیا کچھ نہ کہا۔ آفس کا دیگر اسٹاف پورے سکون میں تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، میں نے باقی دن اپنے پروجیکٹ پر کام کرتے گزار دیا، اور جب چھٹی کا وقت ہوا تو مجھے رکنے کا کہا گیا۔ اب مجھے ایسا اسائنمنٹ دیا گیا جس کے بعد میری اپنے گاؤں بروقت واپسی مشکل تھی۔

انہوں نے آنکھیں ٹشو سے صاف کیں اور گویا ہوئے، تم جانتے ہو وہ رات میں نے کہاں پر گُزاری تھی؟ پھر اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے بولے فیکٹری کے باہر والے بینچ پر۔ ایک قدرے طولانی وقفہ کے بعد پھر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگے، یہ میرا دوسرا دن تھا۔ اس کے بعد آنے والا ہر دن میرے لئے کربناک تھا۔ میری باس مجھے ریکارڈ روم میں فائلیں نکالنے، ڈاکومنٹس کی فوٹو کاپی کروانے کے بعد اسکین کرکے سافٹ کاپی میں بدلنے پر لگادیتیں۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی اسٹاف کے لئے بھی میں ’چھوٹا‘ بن چکا تھا، جس کا سارا دن فوٹو کاپی، اسکین اور میل کرنے میں گزر جاتا اور ہرغلط فوٹو کاپی اور اسکین پر وہ کچھ سننا پڑتا جس کا میں کبھی عادی نہ تھا۔

چار ہفتے مکمل ہوگئے تھے لیکن ہر گزرنے والا دن مجھے بیک وقت مضبوط اور کمزور کررہا تھا۔ اگلے دن باس نے بلایا اور ذہنی اذیت کا ایک نیا سبق شروع ہوگیا۔ باس نے کہ تم سب سے سُست ہو، کمپنی تمہیں کام کے پیسے دے گی، کوئی احسان نہیں ہے جو یہ سب تم کرتے ہو، تم جب آئے تھے تو بہت چست تھے ابھی تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کام سیکھو اگر آگے بڑھنا ہے، بہت نالائق ہو تم، اور میں حسبِ روایت خود میں گم تھا۔ میرا ضبط میرے قدموں میں گر کر گڑگڑایا کہ اللہ پاک کہیں اور ملازمت کا سبب بنادے گا۔ ایک دماغ کہتا کہ بس فوراً ہی چھوڑ دوں یہ نوکری، لیکن پھر خیال آیا کہ دو ہفتے تو رہ گئے ہیں۔ تم وظیفے کے برابر رقم تقریباً ختم کرچکے ہو، یہاں سے مکمل کرکے ہی جانا تاکہ سی وی کا حصہ بن جائے اور اجرت بھی مل جائے۔ جب میں یہ سب سوچ رہا تھا اُس وقت بھی میری باس کی طرف سے ملامت کا سلسلہ جاری تھا، جس کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا، کہ بس اب بہت ہوگیا۔ میں نے اپنی نوٹ بک اُن کی میز پر رکھی اور کہا معاف کیجئے میں شاید یہاں آکر آپکا دن خراب کردیتا ہوں، میں یہ سلسلہ نہیں جاری رکھ سکتا۔ میرے یہ الفاظ آنسوؤں کی ایک لمبی سطروں کے ساتھ میرے چہرے پر پھیل گئے۔ مجھے اُٹھ کر آفس سے باہر جاتے سارا اسٹاف دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے پیچھے آئیں اور کہنے لگیں کہ تم ایسے نہیں جاسکتے، میری بات سنو۔ وہ مجھے میٹنگ روم میں لے گئیں اور ٹشو کا ڈبہ سامنے رکھتے ہوئے بولیں جی بھر کے رولو۔ میں نے بھی تمہاری طرح یہ دن دیکھا تھا اور اب میں اپنے انٹرنز کو بھی دکھاتی ہوں۔

یہ سب تمہاری ٹریننگ کا حصہ تھا تاکہ تم مضبوط ہوکر اس بے رحم دنیا کو سمجھ سکو۔ تم ایک محنتی اور کھرے انسان ہو۔ تم نے اپنا پراجیکٹ پہلے 5 دنوں میں مکمل کرلیا تھا، میں سمجھ گئی تھی تم ذہین ہو پر تم جذباتی طور پر کمزور دکھائی دیتے تھے، اس خامی کو دور کرنے کیلئے سخت سبق دینا پڑا۔ اتنا کہہ کر وہ ایک لمبا سانس لے کر اُٹھے اور جاتے جاتے کہنے لگے کہ ارادے مضبوط رکھو، اور سختی اور کام سے بددل نہ ہو، خود ہی سنبھل جاؤ ورنہ حالات اور لوگ ہمیشہ سادہ سے سبق بھی تلخ انداز سے دیتے ہیں اور وہ تلخیاں جب بھی یاد آئیں تو ہماری روح کو اکثر تار تار کرجاتی ہیں۔