معلومات

منظور پشتین کیوں گرفتار ہوا

why manzoor pashteen arrested

پی ٹی ایم کے نام نہاد لیڈر منظور پشتین کی گرفتاری کو لے کر سرخے، لبرل اور تمام ریاست مخالف تنظیموں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے جیسے یہ کوئی بہت بڑا ظلم ہوا ہے حالانکہ منظور پشتین کو ایک سنگین جرم میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے اور وجہ بھی کوئی عام نہیں بلکہ دستور پاکستان کے خلاف کی جانے والی ہرزہ سرائی ہے جو چند دن پہلے منظور پشتین نے ایک جلسے میں کی تھی۔ اس کی وہ تقریر سننے کے بعد کوئی بھی محب وطن شہری جو کہ آئین پاکستان کو مقدم سمجتا ہے، منظور پشتین کی گرفتاری کاخیر مقدم کرے گا۔

پی ٹی ایم کے قیام کے فوراً بعد ہی محب وطن حلقوں کی طرف سے اس تنظیم کے اغراض و مقاصد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا تھا جو کہ بعد میں پی ٹی ایم نے اپنی گفتار اور کردار سے سچ بھی ثابت کر دیے۔ لیکن محب وطن حلقوں کی جانب سے پی ٹی ایم پر لگائے گئے ہر الزام کو اس تنظیم کی جانب سے پشتون قوم کے خلاف پراپیگنڈہ کہہ کر مسترد کیا جاتا رہا ہے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنی ہر تقریر میں یہی راگ الاپتے تھے کہ ہم ریاست کے مخالف نہیں ہم تو آئین پاکستان کے مطابق اپنے حقوق مانگتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ پی ٹی ایم نے ہمیشہ اپنے زہریلے پراپیگنڈے کی گولی کو شوگر کوٹنگ میں پیش کیا ہے۔ جب بھی ریاست پاکستان نے اپنی سرزمین اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں تو پی ٹی ایم نے اس کو سراہنے کی بجائے ہمیشہ غلط رنگ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ بارودی سرنگوں کی صفائی ہو یا سرحد پار افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے باڑ کی تعمیر، منظور اینڈ کمپنی نے ہمیشہ ریاست پاکستان کے ان شاندار اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے حالانکہ یہ اقدامات تو پی ٹی ایم کے اس منشور کا حصہ بھی تھے جو اس نے عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے پیش کیا تھا۔ لیکن منظور اینڈ کمپنی کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ پہلے کوئی مدعا اٹھا کر ریاست اور فوج کے خلاف پراپیگنڈہ کرو اور جب حقیقت میں وہ مسئلہ حل ہوتا نظر آئے تو اس کو فوج اور ریاست کی چال قرار دے دو۔

محسن داوڑ، علی وزیر اور منظور پشتین یہ پراپیگنڈہ کرتے تھے کہ فوج دہشتگردوں کی حمایت کرتی ہے لیکن جب فوج نے ہزاروں جوانوں اور افسروں کی قربانی دے کر سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے علاقے میں امن قائم کیا تو ان کی طرف سے یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا کہ فوج ہمارے پشتون بھائیوں کا قتل عام کر رہی ہے۔
پھر الزام لگایا گیا کہ پاک افغان سرحد سے دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں پاک فوج کا ہاتھ ہے لیکن جب فوج نے ان کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرنے کے لیے بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا تو یہی لوگ فوج کے اس اقدام کی مخالفت میں ریلیاں اور جلسے منعقد کرنے لگے۔ علی وزیر نے تو ایک جلسے میں کہا تھا کہ جو باڑ اور تاریں تم ڈیورنڈ لائن پر لگا رہے ہو اللہ کی قسم ایک دن ہم یہ تاریں تمہارے گلے میں باندھیں گے۔

پہلے یہ اپنے ہر جلسے میں آئین اور قانون کے حوالے دے کر کہتے تھے کہ اگر ہم مجرم ہیں تو ہمیں گرفتار کرو لیکن جب بھی کسی پی ٹی ایم کے رکن کے خلاف اس کے جرائم کی پاداش میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کی جاتی ہے تو یہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخنے لگتے ہیں کہ ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پھر ان کی کوشش یہی ہوتی ہےکہ قانون کا سامنا کرنے کی بجائے راہ فرار اختیار کی جائے جیسے کہ پی ٹی ایم کی مشر گلالئی اسماعیل اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے پر غیر قانونی طور پر ملک سے فرار ہو گئی۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔

منظور پشتین عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے پہلے تو اپنی تقریروں میں آئین، قانون اور حقوق کی بات کرتا رہا لیکن جب اسے احساس ہوا کہ لوگ اب اس کی چکر بازیوں میں آنے والے نہیں تو تو کھلم کھلا آئین پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے لگا۔ 24 اپریل 2019 کو وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے منظور پشتین نے خود کہا تھا کہ ریاست کی رٹ، ریاست کا آئین ہوتا ہے اور اگر آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ریاست کی رٹ چیلنج ہوتی ہے۔

آج منظور پشتین پاکستان کے آئین کو تعصب پر مبنی دستاویز قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ یہ آئین نہ ہماری ضرورت پوری کرتا ہے اور نہ ہماری مرضی کا عکاس ہے۔ یہ اکثریت کے مفادات کا ضامن اور اقلیتوں کے گلے کا طوق ہے۔ اگر آئین کی خلاف ورزی سے ریاست کی رٹ چیلنج ہوتی ہے تو پورے آئین کو ماننے سے انکار کرنا کیا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا نہیں؟؟؟

سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ منظور کے گرفتاری پر احتجاج کرنے والے سب لوگ اب بھی ایک ہی رٹ لگا رہے ہیں کہ آئینی حقوق کو کچلا جا رہا ہے حالانکہ منظور پشتین کھلے عام کہہ چکا ہے ہم اس آئین کو نہیں مانتے۔ پی ٹی ایم پلس لبرل مافیا والے جب بھی احتجاج کرتے ہیں تو بہت آئینی اور قانونی نقطے بیان کرتے ہیں اب جبکہ پولیس نے ایک سنگین جرم کی بنیاد پر منظور پشتین کو باقاعدہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد گرفتار کیا اور اس کے بعد بھی تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا ہے تو یہ ان لوگوں کا احتجاج کرنا ان کے اپنے مطالبات سے مطابقت نہیں رکھتا، یا تو یہ لوگ اپنے بیانات پر قائم رہیں یا پھر کھلم کھلا اعلان کر دیں کہ ہم صرف اس قانون کو مانیں گے جو ہمارے حق میں ہو گا۔ یہ منافقت کی سیاست اب اور نہیں چلے گی۔ ریاست اور اس کے آئین کے خلاف جانے والے اب قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔